سپریم کورٹ نے آرمی چیف کی مدت ملازمت میں 6ماہ کی توسیع کردی قانون سازی کیلئے معاملہ پارلیمنٹ بھیجا جائے،سپریم کورٹ - A K H HD TV

A K H HD TV

This blog is totally all about news. You may search all types of news here i.e world news, national news, sports news and all you may think.

Breaking

Home Top Ad

Post Top Ad

Responsive Ads Here

Friday, November 29, 2019

سپریم کورٹ نے آرمی چیف کی مدت ملازمت میں 6ماہ کی توسیع کردی قانون سازی کیلئے معاملہ پارلیمنٹ بھیجا جائے،سپریم کورٹ

اسلام آباد : سپریم کورٹ نے آرمی چیف جنرل قمرجاوید باجوہ کی مدت ملازمت میں 6 ماہ کی توسیع کردی اور قانون سازی کیلئے معاملہ پارلیمنٹ بھیجنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا آرمی چیف جنرل قمر باجوہ اپنے عہدے پر برقرار رہیں گے۔
تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ میں چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ ‌نے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی مدت ملازمت میں 3سالہ توسیع سے متعلق کیس کی سماعت کی، اس موقع پر سپریم کورٹ کے احاطے میں پولیس کی بھاری نفری تعینات تھی جبکہ غیر متعلقہ اشخاص کو سپریم کورٹ میں داخل ہونے کی اجازت نہیں تھی۔
اٹارنی جنرل انورمنصور، سابق وزیر قانون فروغ نسیم عدالت میں پیش ہوئے جبکہ وزیراعظم معاون خصوصی برائےاحتساب شہزاداکبر  بھی عدالت میں موجود تھے۔
سماعت شروع ہوئی تو چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ نے  اٹارنی جنرل انورمنصور سے استفسار کیا جنرل کیانی کی مدت ملازمت میں توسیع کےکاغذات اور جنرل راحیل شریف کی ریٹائرمنٹ کیسےہوئی کاغذات بھی منگوالیں ، آپ نے کل فرمایا جنرل کبھی ریٹائرڈنہیں ہوتا ، بتایاجائے راحیل شریف نے اپنا عہدہ کیسے چھوڑا۔
چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ جنرل ریٹائرڈ نہیں ہوتے توانھیں پنشن بھی نہیں ملتی ہوگی، آپ دستاویزات منگوالیں تو15منٹ بعدکیس سن لیتےہیں ، اس دوران ہم دیگرکیسزسن لیتے ہیں۔
آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع سے متعلق سماعت میں 15منٹ کے وقفے کے بعد دوبارہ شروع ہوئی تو چیف جسٹس نے استفسار کیا کیاوہ کاغذات منگوالئےجوہم نے کہے تھے، جس پر ،اٹارنی جنرل انورمنصور نے کہا جی کاغذات سے متعلق بول دیا ہے وہ آرہے ہیں۔
اٹارنی جنرل نےآرمی چیف کی مدت ملازمت سے متعلق نئی سمری پیش کی ، جس پر چیف جسٹس نے کہا آپ نے کچھ اور بھی فرمانا ہے یا بس، سوال یہ ہے اب آپ نے جوطریقہ کار اختیار کیا وہ درست یا نہیں ، اب مکمل طریقہ کار تبدیل ہوگیاہے، اب آپ عدالت کومطمئن کریں کہ یہ طریقہ کاردرست ہے۔
جسٹس آصف کھوسہ کا کہنا تھا کہ اس سمری میں آپ عدالت کو کیوں بیچ میں لارہےہیں، یہ تویوں لگ رہا ہے سپریم کورٹ احکامات پریہ سب ہورہاہے، آپ اپنا بوجھ خود اٹھائیں ، عدالت کا کندھا کیوں استعمال کر رہےہیں، یہ آپ کااپنا معاملہ ہے اس میں ہمارا ذکر نہ کریں، ہمارا ذکر اس سمری سے باہر نکالیں۔
چیف جسٹس نے کہا آپ نے 28 نومبر کی تقرری کردی ہے، آج تو اسامی خالی نہیں ہوئی تو اس پر تقرری کیسےہوگئی، اس طریقہ کار اور آج کی تاریخ میں کوئی  غلطی نہیں ہے، ہمیں نظر آرہا ہے کہ آپ نے کل معاملے پرغورکیاہے ، تقرری ہوتی ہی آئین کےمطابق ہے۔
چیف جسٹس نے مزید کہا آپ نے معاملے پر عدالت کا ایڈوائزری رول لکھ دیااسےنکالیں، جب تک صدرخودایڈوائزری رول نہ مانگے عدالت کا کردار نہیں بنتا ، اٹارنی جنرل انورمنصور نے عدالت کو بتایا ستاویزات کچھ دیر میں پہنچ جائیں گی، آرٹیکل243کےتحت آرمی چیف کی دوبارہ تعیناتی کی گئی، جس پر چیف جسٹس نے پوچھا آج ہونے والی تعیناتی پہلے سے کیسے مختلف ہے؟
اٹارنی جنرل نے بتایا نئی تعیناتی آرٹیکل243 ون بی کے تحت کی گئی ہے،چیف جسٹس نے کہا عدالت کی ایڈوائس والاحصہ سمری سےنکالیں ، صدر اگر ہماری  ایڈوائس مانگیں تو وہ الگ بات ہے، تعیناتی قانونی ہے یا نہیں اس کا جائزہ لیں گے، جسٹس منصورعلی کا کہنا تھا کہ 3 سال کی مدت کا ذکر تو قانون میں کہیں نہیں۔
چیف جسٹس نے کہا آپ نےپہلی مرتبہ کوشش کی ہےکہ آئین پرواپس آئیں ، جو چیز آئین وقانون کے مطابق ہو توہمارےہاتھ بھی بندھ جاتےہیں، لیکن سمری میں سپریم کورٹ کا ریفرنس ہمیں نہیں چاہیے، معاملے میں جوبات کھٹک رہی ہےوہ 3 سال کی مدت ہے، آئین کے آرٹیکل 243 میں ایسا کچھ نہیں  لکھا ہے ، آج ہم نے توسیع کردی تو 3 سال کی مدت پرمہرلگ جائے گی، کل آرمی ایکٹ کاجائزہ لیاتوبھارتی،سی آئی اےایجنٹ کہاگیا۔
اٹارنی جنرل انورمنصور نے کہا ہماری بحث کا بھارت میں بہت فائدہ اٹھایاگیا، جس پر ،چیف جسٹس کا کہنا ہے کہ ہمیں ففتھ جنریشن وارکاحصہ ٹھہرایا گیا، وہ ہماراحق ہےکہ سوال پوچھیں جبکہ جسٹس منصور نے کہا اٹارنی جنرل نے بھی کل پہلی بار آرمی قوانین پڑھیں ہوں گے ، آپ تجویز کریں آرمی قوانین کو کیسے درست کریں۔
جسٹس منصور علی شاہ مزید کہا کہآرٹیکل 243 میں مدت ملازمت نہیں ہے ، اپنی سمری کوآرٹیکل 243 کے ضابطے کےاندر لائیں، چیف جسٹس نے کہا  آرٹیکل243کےساتھ آپ نے3 سال لکھ دیا ہے، اٹارنی جنرل نے کہا الجہاد ٹرسٹ کیس ہمارے سامنےہے۔
سپریم کورٹ نے جنرل قمرجاوید باجوہ کی مدت ملازمت میں توسیع کے معاملے پرمشروط رضامندی ظاہرکردی ، چیف جسٹس نے کہا آپ نے کہا ہے قانونی  سازی کیلئے 3 ماہ چاہئیں، ہم 3 ماہ کے لئے اس کی توسیع کردیتے ہیں، جنھوں نے ملک کی خدمت کی ان کابہت احترام ہے،ہمیں آئین وقانون کا سب  سے زیادہ احترام ہے، اٹارنی جنرل کا کہنا تھا کہ قانون سازی کے لیے ہمیں 6ماہ کا وقت دیا جائے۔
چیف جسٹس نے کہا حکومت پہلی بارآئین پرواپس آئی ہے، جب کوئی کام آئین کے مطابق ہو تو ہمارے ہاتھ بندھ جاتے ہیں، عدالت نےتوسیع کردی تویہ قانونی مثال بن جائے گی، لگتا ہے تعیناتی کے وقت حکومت نےآرٹیکل 243میں پڑھتے ہوئے اضافہ کردی، اٹارنی جنرل کا کہنا تھا کہ جہاں مدت کاذکرنہ ہو تو حالات کے مطابق مدت مقررہوتی ہے، سوشل میڈیا کسی کے کنڑول میں نہیں۔
جسٹس آصف کھوسہ نے مزید کہا آئینی اداروں کے بارے میں ایسا نہیں کرنا چاہیے، آپ تین سال کے لیے توسیع دے رہےہیں، کل کوئی قابل جنرل آئے گا تو پھر کیا 30سال کیلئے توسیع دیں گے، جسٹس مظہر عالم کا کہنا تھا پہلے تو کسی کو ایک سال کسی کو 2 سال کی توسیع دی گئی۔
جسٹس منصور علی شاہ کا کہنا تھا کل ہم کہہ رہے تھے کہ جنرل ریٹائرہوتےہیں، آپ کہہ رہے تھے کہ نہیں ہوتے، پھر آج کہہ رہے ہیں کہ ہو رہے ہیں، چیف جسٹس نے کہا آرمی ایکٹ میں ابہام ہے، جس پر جسٹس منصور علی شاہ نے کہا پارلیمنٹ کو اس ابہام کو دور کرنا ہے۔
چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ آپ رولز میں ترمیم کرتےرہےہیں، پھر ہم کو ایڈوائزری کردار لکھ دیا، ہم یہ نہیں کہہ رہےکہ ابھی جاکرقانون بناکرآئیں، جوقانون72سال میں نہیں بن سکتا وہ اتنی جلدی نہیں بن سکتا، جس پر اٹارنی جنرل نے کہا اس وقت میرے پاس کوئی قانون نہیں سوائےدستاویزکے، ہم کوشش کررہےہیں کہ معاملے پرکوئی قانون بنائیں۔
جسٹس آصف سعیدکھوسہ نے کہا قانون بنانے میں کتنا وقت لیں گے،اٹارنی جنرل انورمنصور کا کہنا تھا کہ ہمیں 3 ماہ کا وقت چاہیے تو چیف جسٹس نے مزید کہا کہاجاتا ہے کہ عدالت خود نوٹس لے، عدالت ازخود نوٹس کیوں لے؟ ریاض حنیف راہی عدالت میں آئے ہیں، ہم انہیں جانے نہیں دے رہے۔
آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع کے معاملے پر فیصلہ محفوظ کرلیا اور توسیع پرفیصلہ آج دوپہرسنائےگی اور اٹارنی جنرل کو ہدایت کی کہ 4 نکات پر مشتمل تحریری بیان جمع کرائیں۔
چیف جسٹس نے ریمارکس میں کہا سمری سے عدالت کا ذکر ختم کیا جائے، سمری میں مدت ملازمت کا تعین ختم کیا جائے، تنخواہ اور مراعات کے حوالے سےتصحیح کی جائے اور ماہ میں پارلیمنٹ سےقانون سازی کی یقین دہانی کرائی جائے۔
فروغ نسیم کا کہنا تھا کہ عدالت کو یقین دلاتا ہوں آرٹیکل243میں بہتری کریں گے ، اس کا بیان حلفی بھی دینے کے لیے تیار ہیں، حلفیہ بیان دیتے ہیں 243میں تنخواہ، الاؤنس اور دیگر چیزیں شامل کریں گے۔
آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع کےمعاملےپرسماعت وقفے کے بعد دوبارہ شروع ہوئی تو حکومت  نے عدالت کی جانب سے اٹھائےگئے4نکات پر  بیان حلفی عدالت میں پیش کردیا، چیف جسٹس کی سربراہی میں 3رکنی بینچ  نے بیان حلفی کا جائزہ لیا۔
چیف جسٹس کی سربراہی میں 3رکنی بینچ نےفیصلہ لکھوانا شروع کردیا ، چیف جسٹس نے کہا 6ماہ کے اندر قانون سازی کی جائے، تفصیلی فیصلہ بعد میں جاری کریں گے۔
سپریم کورٹ نے مختصر فیصلہ میں آرمی چیف کی مدت ملازمت میں 6ماہ کی توسیع کرتے ہوئے حکومت کا نوٹیفکیشن مشروط طور پر منظور کرلیا اور کہا آرمی چیف جنرل قمر باجوہ اپنے عہدے پر برقرار رہیں گے۔
فیصلے میں کہا گیا آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع چیلنج کی گئی، حکومت نے یقین دلایا 6 ماہ میں اس معاملےپرقانون سازی ہوگی، حکومت نے 6ماہ میں قانون سازی کی تحریری یقین دہانی کرائی، 6 ماہ بعداس سلسلےمیں کی گئی قانون سازی کاجائزہ لیا جائے گا۔
سپریم کورٹ کا کہنا تھا کہ اس معاملے پرقانون سازی کرناپارلیمنٹ کااختیار ہے ، قانون سازی کے لئے معاملہ پارلیمنٹ بھیجا جائے، تحمل کا مظاہرہ کرکے معاملہ پارلیمنٹ پر چھوڑتے ہیں، پارلیمنٹ آرٹیکل 243 اور ملٹری ریگولیشن 255 کے سقم دور کرے۔
فیصلے میں کہا گیا آئین میں ایسی کوئی شق نہیں جس میں مدت ملازمت کا تعین ہو، اس دوران پارلیمنٹ قانون میں ترمیم کرے گی ، آرٹیکل 243 کے تحت مدت کا تعین نہیں ہے ، پارلیمنٹ مدت کا تعین اور دیگر قانونی تقاضے پورے کرے گی۔
عدالت نے کہا ہمارے سامنے جب یہ کیس آیا تو ہم نے جائزہ لیا، قانون کےمطابق مدت ملازمت میں توسیع یادوبارہ تقرری کاذکر نہیں اٹارنی جنرل نے بتایا کہ آرمی چیف کی توسیع ایک روایت ہے ، آرمی چیف فوج کے انتظامی سربراہ ہوتےہیں اور انتظامی امور اور جنگ کےمعاملات کنٹرول کرتےہیں ، ان کی مدت ملازمت میں توسیع ضرورت،روایت کے تحت کی گئی۔
فیصلے میں کہا گیا اٹارنی جنرل نے یقین دہانی کرائی روایت کوحکومت قانون کی شکل دےگی، تحریری بیان کی بنیاد پر حکومت کا جاری نوٹیفکیشن درست قرار  دیتےہیں، چیف آف آرمی اسٹاف قمر جاویدباجوہ اپنی ملازمت جاری رکھیں گے۔
گذشتہ روز آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی مدت ملازمت میں توسیع سےمتعلق کیس کی سماعت میں چیف جسٹس نے کہا تھا ایسی غلطیاں کی گئیں کہ ہمیں تقرری کوکالعدم قراردینا ہوگا، سمری میں دوبارہ تعیناتی،تقرری،توسیع کانوٹیفکیشن جاری کیا،اب بھی وقت ہے دیکھ لیں، حکومت کل تک اس معاملے کا حل نکالے، پھر ذمہ داری ہم پر آ جائے گاعظیم خان (اے کے ایچ نیوز صوابی)

No comments:

Post a Comment

Post Bottom Ad

Responsive Ads Here

Pages