Why corruption matters: understanding causes, effects (Azeem Khan Swabi) - A K H HD TV

A K H HD TV

This blog is totally all about news. You may search all types of news here i.e world news, national news, sports news and all you may think.

Breaking

Home Top Ad

Post Top Ad

Responsive Ads Here

Monday, October 10, 2022

Why corruption matters: understanding causes, effects (Azeem Khan Swabi)




دہ حق آواز حکمرانوں کے وعدہ خلافیوں ۔ پولیس اور انتظامیہ کے افسران کی کرپشن کا فطری ردعمل ہے۔ آئس اور دوسرے نارکاٹکس کے خلاف 12سال سے پولیس کے ہمراہ جرگے کرنے والے اگرچہ مخلص ہیں لیکن منشیات کے خلاف ان کے ہمراہ پروگرام میں بڑے دعوے کرنے والے پولیس آفیسرز

مبینہ طور پر منشیات فروشوں کی پشت پناہ ہوتے ہیں اور جرگے وال بڑے افسران کے ساتھ فوٹو سیشن کر کے خوش ہوتے ہیں۔۔ دہ حق آواز واپڈا اور حکومتی ظالمانہ ٹیکسز کے ایشو سے فارغ ہونے کے 3ماہ کے اندر آئس اور دوسرے منشیات کو ختم کرے گی۔ ہم حکومت سے تربیلا ڈیم سے متاثرہ اضلاع صوابی اور ہری پور کے لیے 300یونٹ فری لینے اور اربوں روپے کی رائلٹی سے صوبے کے عوام کے لیے بجلی یونٹ کی قیمت کم کرنے تک اپنی جدوجہد کو جاری رکھیں گے۔ ان خیالات کا اظہار دہ حق آواز کے صدر احسان الحق بام خیلوی ۔ کابینہ ارکان حاجی اسرار خان یوسفزئی۔ طارق جان۔ عمر صوابی وال۔روشن خان۔رحمت اللہ۔اختر یوسف دہ حق آواز یوتھ کے ضمنی صدر بلال سکندر۔ انجمن تاجران شیوا اڈا کے صدر خان فراز خان دہ حق آواز میں نئے شامل ہونے والے ارکان ہارون خان شیر غنڈ۔ ڈاکٹر صدام خان اور دیگر نے شیوہ اڈا میں دہ حق آواز کے لئے منعقدہ جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کیا انہوں نے کہا کہ سیاسی جماعتیں مہنگائی اور واپڈا کے ظالمانہ ٹیکسز کے خلاف ایک جلسہ کر کے صرف نمبر سکورنگ کرتی ہے جب کہ دہ حق آواز نے ایک مربوط حکمت عملی کے تحت واپڈا کے بجلی بلز میں عوام کے ساتھ ہونے والے ظلم۔بجلی تربیلا ڈیم رائلٹی۔متاثرہ اضلاع صوابی اور ہری پور کے لیے واپڈا سے 300یونٹ تک مفت حاصل کرنے کے لیے منظم تحریک شروع کر رکھی ہے اس کے لیے اب تک ہم تین بار انتظامیہ اور حکام سے ٹیبل ٹاک کر چکے ہیں جب کہ 8بارروڈکےاوپربھی احتجاجی مظاہرے کر چکے ہیں الیکٹرانک میڈیا۔ پرنٹ میڈیا اور سوشل میڈیا پر مہم کے ساتھ ساتھ دہ حق آواز۔نے FPA کے ظالمانہ ٹیکس کے خلاف پشاور ہائی کورٹ میں رٹ دائر کیا تھا اب ہماری تحریک فیصلہ کن مرحلے میں ہے اور بہت جلد ہم اسلام آباد پریس کلب کے سامنے بھوک ہڑتالی کیمپ کے ساتھ ساتھ پارلیمنٹ کی طرف مارچ کرینگے جس میں ہم نیشنل اور انٹرنیشنل میڈیا کے سامنے اپنا جائز حق رکھینگے کہ ہم اور ہمارا صوبہ ملک بھر میں سب سے زیادہ تیل و گیس اور پانی کے ذریعے سستی بجلی پیدا کرتی لہذا ہمارا حق کہ ہم سارے صوبے کو تربیلا ڈیم سے بجلی فراہم کی جائے ہمارا حق ہے کہ ہماری بجلی کی رائلٹی کی اربوں روپے ہمارے بجلی بلز میں ایڈجسٹ کی جائے تاکہ KPKکےعوام کوسستا یونٹ ملے انہوں نے مذید کہا کہ چونکہ پاکستان کا سب سے بڑا ہائیڈل ڈیم صوبہKPK کے اضلاع صوابی اور ہری پور میں واقع ہے جس سے ہزاروں خاندان متاثر ہوئے ہیں لہذا ان دو اضلاع کے لیے بجلی صارفین کو 300یونٹس تک فری دئیے جائیں۔ ۔ دہ حق آواز کے رہنماؤں نے کہا کہ فی الحال ہم نے صرف واپڈا پر فوکس کیا جس کے ساتھ ساتھ ہم نےPTIکی صوبائی حکومت کی عوام کش پالیسیوں پر بھی مہم چلانے کا فیصلہ کیا ہے انہوں نے صوبائی حکومت کی منافقت کا پردہ چاک کرتے ہوئے کہا کہ اس حکومت کے حکمرانوں کے لیے ڈوب مرنے کا مقام ہے کہ یہ حکومت میں ہوتے ہوئے بھی مہنگائی کے خلاف مہم چلاتی ہے لیکن زمینوں کے انتقالات کی مد میں ٹیکسز میں 200فیصدسےزائداضافہ کر کے اپنے صوبے کے غریب عوام کی پیٹ میں چھرا گھونپتی ہے۔ مقررین نے بتایا کہ عوام کے ان دو مسائل سے جونہی دہ حق آواز کی قیادت اور کارکنان فارغ ہونگے ہم معاشرے میں بڑھتے ہوئے منشیات اور خصوصا آئس کے پھیلاؤ پر توجہ دینگے اگرچہ اس فیلڈ میں کافی سارے این جی اوز اور جرگے دس بارہ سالوں سے سرگرم عمل ہیں لیکن یہ لت بڑھتی جارہی ہے جس کے ذمہ دار نااہل پولیس افسران ہیں کیونکہ جرگوں کے مخلص اور سادہ لوح ارکان  اور پولیس جب باہم آئس اور منشیات کے خلاف پروگرامز۔۔سیمینار منعقد کیا کرتے ہیں اور پولیس افسران اپنی تقاریر میں اس حوالے سے عوام سے تعاون کی اپیلیں کرتے ہیں تو خود ان تقاریر کرنے والے پولیس اہلکاروں کا کردار اس حوالے سے سوالیہ نشان ہوتا ہے اور عوام سمجھتے ہیں کہ یہ لوگ خود ایسے معاشرہ دشمن عناصر کی سرپرستی کرنے ہیں جبکہ عوام کا یہ خیال بےبنیاد ہر گز نہیں ہوتا کیونکہ یہ ناممکن ہے کہ پولیس بحیثیت محکمہ چاہے اور منشیات کی ناسور کا خاتمہ نہ ہو یہ ممکن ہی نہیں۔بلکہ پولیس کے اندر سے ایک معتبر ذریعے نے انکشاف کیا ہے کہ بعض پولیس افسران اور اہلکار خود اس لت کے شکار ہو چکے ہیں۔ انجمن تاجران کے صدر خان فراز خان نائب صدر فدا محمد اور اس کے نمائندوں نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ ہم دہ حق آواز کا تہہ دل سے مشکور ہیں کہ وہ کسی لالچ کے بغیر رضائے الہی کے لیے معاشرے کی نہ صرف خدمت کر رہے ہیں بلکہ ایک قدم آگے بڑھ کر سماجی برائیوں کی بیخ کنی کے لیے بھی پر عزم ہیں انہوں نے دہ حق آواز اور اس کے قائدین کو یقین دلایا کہ ہم نہ صرف آپ کی حمایت کرتے بلکہ ہمیں خوشی سے کہ ہم سب آپ کے ساتھ شمولیت بھی کرتے ہیں اور دہ حق آواز کی کاز کےلیے تن من دھن کی قربانی سے دریغ بھی نہیں کرینگے۔۔ تقریب کے اختتام پر دہ حق آواز کے صدر احسان الحق بام خیلوی نے کابینہ ارکان کو دہ حق آواز کے کارڈز دئیے۔۔۔۔۔۔ ترتیب و تحریر احسان الحق بام خیلوی صدر دہ حق آواز 03344704700


Corruption is a natural reaction of police and administrative officers. Although those who have been conducting jirgas with the police for 12 years against ice and other narcotics are sincere, but the police officers who have made big claims in the anti-drug program with them.Allegedly, drug peddlers have their backs and Jirgawals are happy to have photo sessions with senior officers. Deh Haq Awaz will eliminate ice and other drugs within 3 months of getting rid of the issue of WAPDA and government oppressive taxes. We will continue our struggle till we get 300 units free for Tarbela Dam affected districts of Swabi and Haripur from the government and reduce the price of electricity unit for the people of the province with billions of rupees royalty. Ehsanul Haque Bam Khelvi, president of Haq Awaz, expressed these views. Cabinet members Haji Israr Khan Yousafzai. Tariq John Umar Swabiwal, Roshan Khan, Rahmatullah, Akhtar Yusuf, Deputy President of Haq Awaz Youth, Bilal Sikandar. Anjuman Tajran Shiva Ada President Khan Faraz Khan Deh Haq Awaz New Members Haroon Khan Sher Ghand. Dr. Saddam Khan and others while addressing the meeting organized for Duh Haq Awaz in Shewa Adda said what he would say. That political parties are only scoring numbers by rallying against inflation and WAPDA's cruel taxes, while Deha Haq Awaz has under a coordinated strategy, WAPDA's oppression of people in electricity bills. Electricity Tarbela Dam Royalty. We have started an organized movement to get up to 300 units free from WAPDA for the districts of Swabi and Haripur. 8 Electronic media have also held protests on Bar Road. Along with campaigning on print media and social media, Haqq Awaz filed a writ petition in Peshawar High Court against the cruel tax of FPA. At the same time, we will march towards the Parliament, in which we will present our legitimate right in front of the national and international media that we and our province should generate the most cheap electricity through oil and gas and water in the country. Therefore, it is our right that all the provinces We have the right to adjust billions of rupees of our electricity royalty in our electricity bills so that the people of KPK get cheaper units. He further said that since Pakistan's largest hydel dam is located in Swabi and Haripur districts of KPK province, which has affected thousands of families, up to 300 units of electricity were given free to the consumers of these two districts. go . The leaders of Deha Haq Awaz said that for now we have only focused on WAPDA, along with which we have also decided to campaign against the anti-people policies of the PTI provincial government. It is a point of drowning for the rulers of this government that it runs a campaign against inflation even while in government. But by increasing the taxes by more than 200% due to the transfer of land, it stabs the poor people of its province in the stomach. The speakers said that as soon as the leadership and workers of Deh Haq Awaz are freed from these two problems of the people, we will pay attention to the increasing spread of drugs and especially ice in the society, although many NGOs and Jirga have been active in this field for 12 years. There are actions but this addiction is increasing which is responsible for the incompetent police officers because sincere and simple members of Jirgas and police organize anti-drug programs and seminars and police officers in their speeches in this regard. When they appeal to the people for their cooperation, the role of the police officers who make these speeches is questionable in this regard.


No comments:

Post a Comment

Post Bottom Ad

Responsive Ads Here

Pages