گدون شیراعظم خان جدون کا نوک قلم آج بھر سراپا احتجاج۔۔ (عظیم خان صوابی)Gadoon Shirazam Khan Jadoon's sharp pen protests all over today. (Azeem Khan Swabi) - A K H HD TV

A K H HD TV

This blog is totally all about news. You may search all types of news here i.e world news, national news, sports news and all you may think.

Breaking

Home Top Ad

Post Top Ad

Responsive Ads Here

Monday, April 25, 2022

گدون شیراعظم خان جدون کا نوک قلم آج بھر سراپا احتجاج۔۔ (عظیم خان صوابی)Gadoon Shirazam Khan Jadoon's sharp pen protests all over today. (Azeem Khan Swabi)





گدون شیراعظم خان جدون کا نوک قلم آج بھر سراپا احتجاج 56 یونین کونسلوں 4 تحصیلوں تحصیل رزڑ تحصیل چھوٹا لاھور تحصیل صوابی اور تحصیل ٹوپی اور تقریبا ً17 لاکھ نفوس اور 100 سے زاھد صحافیوں کا حامل تاریخی اہمیت کا حامل غیور پختونوں کا مسکن ضلع صوابی کو تحصیل کا درجہ 1936 میں اور ضلع کا درجہ جولائی 1988 میں ملا 34 سال بیت جان کے باوجود ضلع صوابی میں پریس کلب ندارد ضلع بھر کے صحافتی برادری گروپ بندی کے شکار زرد صحافت کے پجاری مفاد پرست عناصر نت نئی حیلے بہانوں سے پریس کلب کی قیام میں روڑے اٹکانے پر تلے ہوئے ہیں جگہ بہ جگہ صحافت براے فروخت کے بورڈ اور بینرز لگائے بیٹھے ہیں جبکہ بعض ناعاقبت اندیش عناصر اپنے تنظیموں کے پرائیویٹ دفاترز کو پریس کلب کا نام دینے لگے بدایں وجہ ضلع صوابی پریس کلب کی سہولت سے تادم تحریر محروم است جس کا فائدہ سیاسی جماعتوں کے سیاسی پنڈت اور کرپٹ بیوروکریسی اٹھا رہے ہیں بتایا جاتا ہے کہ سابق وزیر اعلیٰ خیبر پختونخواہ امیر حیدر ھوتی نے صحافیوں کے لیے شاہ منصور کے مقام پر پریس کلب کے نام پر ایک خوبصورت کشادہ بلڈنگ تعمیر کی گئی تھی مگر بد قسمتی سے بلڈنگ کو ضلع انتظامیہ نے ایک سرکاری ادارے کو بطور آفس عارضی طور پر دے دی جس کے وجہ سے صوابی پریس کلب کا مسلہ جوں کا توں رہ گیا نیا تو محکمہ والے اس بلڈنگ کو چھوڑنے کے لیے تیار ہیں اور نہ پاکستان تحریک انصاف کی صوبائی حکومت ضلع صوابی کے صحافیوں کے لیے نیا پریس کلب بلڈنگ بنانے کا کوئی ارادہ رکھتی ہے ضلع صوابی کے علاوہ اگر اپ خیبر پختونخواہ کے دیگر چھوٹے بڑے ضلعوں کا جائزہ لیں تو وہاں پر صحافیوں کے لیے باقاعدہ پریس کلب بہترین سہولتوں کے ساتھ موجود است یہاں تک بعض تحصیلوں میں بھی پریس کلب سہولتوں کے ساتھ موجود ہے جہاں پریس کلب موجود ہے وہاں صحافیوں کے لیے رہائش کالونیاں میڈیکل سہولیات سمیت سالانہ تقریباً 30 لاکھ روپے پریس کلب کے مد میں ہر سال صحافیوں کو گرانٹ دیے جاتے ہیں مگر صد افسوس کہ ضلع صوابی کے ایک صد صحافی حضرات حکومت کی اس مبینہ سہولتوں سے محروم ہے سوال یہ پیدا ہوتا ہےکہ اگر پریس کلب کے نام پر سالانہ 30 لاکھ ملنے والا فنڈ کی خبر درست ہے تو بھر ضلع صوابی پریس کلب کے نام پر گزشتہ تین دہائیوں سے ملنے یا آنیوالا مبینہ30 لاکھ روپے فنڈ کس کے جیب میں جاتا ہے کیا خدا نخواستہ یہ وہی مافیا تو نہیں ہے جو کہ گزشتہ 3 دہائیوں سے ضلع صوابی میں پریس کلب بنانے کے خلاف ہے ہم کونسے گروپ میں شمار کیے جاتے ہیں کچھ دن گزرتے ہیں تو ضلع صوابی میں موجود ایک صحافت مافیہ نی تنظیم کا ڈرامہ رچا کر ضلع صوابی کے صحافیوں کو تقسیم در تقسیم کر کے اپنے مقاصد حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور براے نام نیا تنظیم بنا کر ضلعی انتظامیہ اور سیاسی پنڈتوں کی آشیر اباد حاصل کرکے اور چند دن خبروں کی سرخی بن کر رفو چکر ہو جاتے ہیں کیا سب کو اکھٹے کر کے اصل مشن حاصل کرنے کی طرف نہیں جاسکتے اصل مشن ہے ضلع صوابی میں پریس کلب مگر افسوس کہ کوئی پریس رپورٹر صحافی اینکر پرس کالم نگار اس اہم مشن کی طرف دھیان نہیں دے رہا تنظیموں کو چھوڑ پریس کلب کی بات کرو رات کی نہیں دن کی بات کرو خزان میں بہار کہ بات کرو جھوٹ ہے سب کچھ سچ کی بات کرو صوابی کو تحصیل کا درجہ 1936 میں اور ضلع کا درجہ جولائی 1988 میں دیا گیا کتنی حکومتیں شور مچاتے ہوے آئی اور غراتی ہوئی واپس چلی گئی ضلع صوابی میں ڈسٹرکٹ ناظم اعلیٰ سے لیکر تحصیل ناظم ڈپٹی کمشنرز رکن صوبائی اسمبلی رکن قومی اسمبلی صوبائی اور وفاقی وزرا اور یہاں تک کے بیک وقت 5 سینیٹرز بھی ضلع صوابی کے حصے میں آے اور سب سے بڑھ کر سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر مگر مجال ہے کیسی نے سچی دل سے ضلع صوابی کے اس ایک صد صحافیوں کی کھبی اشک شوئی کی ہو اور ان بد قسمتی صحافیوں کی دل کی آواز پر کھبی دھیان دیا ہو کہ چلو جناب صحافیوں کے لیے صوابی میں پریس کلب ہی بنا دیتے میں جو کہ ان کا قانونی و اخلاقی حق بنتا ہے تیرے گنہگار بندوں کی نہ یہ دنیا نہ وہ دنیا یہاں جینے کی پاپندی وہاں مرنے کی پابندی چشم نمدیدہ اپ سب کا خادم شیراعظم خان جدون سینیر صحافی و سابق جی ایس ڈسٹرکٹ یونین آف جرنلسٹس ضلع صوابی 03219170015

No comments:

Post a Comment

Post Bottom Ad

Responsive Ads Here

Pages